ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس موقع پر کہا کہ علاقے میں بحران کے بنیادی اسباب تمدنی اقدار کا فقدان، غربت اور بے انصافی نیز جمہوریت کا فقدان اور بیرونی افواج کی موجودگي اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے عبارت ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اس ملاقات میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کو علاقے کے اہم ترین خطروں میں شمار کیا۔ صدر ایران جناب حسن روحانی نے کہا کہ عدل وانصاف اور جمہوریت کے فقدان، جنسی اور قومی تعصب، انسانی حقوق کی صحیح سوچ اور سمجھ نہ ہونا اور اسی طرح بیرونی افواج کی موجودگي سے عالمی برادری کو شدید تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی، تشدد اور انتہا پسندی کے مقابلے کے اقدامات، اقوام متحدہ میں ایران کی جانب سے پیش کی گئي تجاویز کی اساس پر انجام دیئےجانے چاہئیں۔ صدر مملکت نے شام کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بارے میں سب سے اہم کام دہشتگردوں کی فوجی اور سیاسی حمایت روکنا ہے جو بعض ملکوں کی جانب سے جاری ہے جبکہ شام کے عوام کو انسانی امداد پہنچانا بھی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، این پی ٹی کے مطابق اپنے حقوق سے بڑھ کر کچھ اور نہیں مانگ رہا ہے اور اگر مد مقابل میں یہ عزم پایا جاتا ہے تو ایران مختصرمدت میں ہی جامع اور حتمی معاہدے کے لئے تیار ہے۔
.......
/169